ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منڈگوڈ تبتی کیمپ کے لئے سرکاری بس رد کرنے کا مطالبہ

منڈگوڈ تبتی کیمپ کے لئے سرکاری بس رد کرنے کا مطالبہ

Thu, 15 Dec 2016 13:19:50    S.O. News Service

منڈگوڈ 15؍دسمبر (ایس او نیوز)یہاں تبتی کیمپ کے لئے کے ایس آر ٹی سی بس سروس شروع کیے جانے کے خلاف ٹیکسی اور آٹو رکشا والوں نے مقامی ایم ایل اے شیورام ہیبار کے سامنے اپنا احتجاج درج کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمپ کے لئے سرکاری بس سروس شروع ہونے کے بعد ٹیکسی اور آٹو چلاکر اپنا پیٹ پالنے والوں کے لئے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

شیورام ہیبارکے بنگلورو کی طرف روانہ ہونے کی خبر ملنے پر آٹو رکشا اور ٹیکسی والوں نے گھنٹوں سڑک کے کنارے انتظار کے بعد ان کا راستہ روک کر اپنا دکھڑا بیان کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ اپنا سنسار کس طرح چلائیں انہیں بتایا جائے۔کیونکہ وہ لوگ تبتی کیمپ تک سواریاں لے جا کر اپنی کمائی کررہے تھے مگر اب سرکاری بس سروس شروع ہونے کے بعد ان کایہ سہارا جاتا رہا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تبتی کمیونٹی والوں نے اپنے لوگوں کو لازمی طور پر صرف اور صرف سرکاری بس پر سفرکی ہدایت جاری کرنے، اور ٹیکسی یا رکشا استعمال کرنے پر500 روپے جرمانہ لگانے کی بات سننے میں آئی ہے۔ اس لئے انہوں نے ایم ایل اے کے پاس مانگ رکھی ہے کہ تبتی کیمپ کے لئے جاری کی گئی سرکاری بس سروس کو رد کردیا جائے اور آٹو رکشا اور ٹیکسی والوں کے جینے کا سہارا بحال کیاجائے۔

ایم ایل اے نے ان لوگوں کے مسائل سننے کے بعد کہا کہ وہ اس سلسلے میں تبتی کیمپ کے ذمہ داروں سے مشورہ کے کوئی نہ کوئی حل نکالیں گے۔اس موقع پر پٹن پنچایت کے صدر رفیق انعامدار،اسٹانڈنگ کمیٹی صدر رابرٹ لوبودیگر ذمہ داران موجود تھے۔


Share: